راہل گاندھی کا زرعی قوانین کی منسوخی کامطالبہ

راہل گاندھی نے پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس مظاہرہ کیا

(وصی الدین صدیقی )

نئی دہلی:22؍جولائی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو تین نئے زرعی قوانین کی منسوخی کے کسانوں کے مطالبات پر پارلیمنٹ احاطہ میں کسانوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ راہل گاندھی نے پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس مظاہرہ کیا۔ کانگریس لیڈروں نے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔راہل گاندھی نے اس تعلق سے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں راہل گاندھی سمیت کانگریس کے دیگر لیڈران مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’وہ جھوٹ، ناانصافی، تکبر پر بضد ہیں، ہم سچ، بے خوف، متحد یہاں کھڑے ہیں۔ جے کسان۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ جنوبی اتر پردیش، پنجاب اور ہریانہ کے کسان گزشتہ سال 26 نومبر سے قومی راجدھانی کی کئی سرحدوں کے پاس تینوں رعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن مرکز کی مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔اس درمیان جمعرات سے کسان جنتر منتر پر دھرنا و مظاہرہ کرنے پہنچ گئے ہیں۔ کسان گروپوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ مانسون اجلاس کے آخر تک ہر دن ’کسان پارلیمنٹ‘ منعقد کریں گے، اور 200 مظاہرین روزانہ جنتر منتر پر جائیں گے۔ ڈی ڈی ایم اے کی منظوری کے مطابق کسانوں کو جنتر منتر پر 22 جولائی سے 9 اگست تک زیادہ سے زیادہ 200 لوگوں کی موجودگی کے ساتھ دھرنا و مظاہرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ ڈی ڈی ایم اے کے حکم کے بعد دہلی پولیس نے جنتر منتر اور دہلی کی تین سرحدوں ٹیکری، سنگھو اور غازی پور پر سیکورٹی بڑھا دی ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.

ہندوستان

عالمی خبریں

کھیل

فلمی دنیا